سورة البقرة - آیت 50

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور پھر وہ وقت یاد کرو جب (تم مصر سے نکلے تھے اور فرعون تمہارا تعاقب کر رہا تھا) ہم نے سمندر کا پانی اس طرح الگ الگ کردیا کہ تم بچ نکلے مگر فرعون کا گروہ غرق ہوگیا، اور تم (کنارے پر کھڑے) دیکھ رہے تھے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٠٤: نجات دینے کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے، کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اپنی قوم کو لے کر رات کے وقت بحر قلزم کی طرف چل پڑے، فرعون نے ان کا پیچھا کیا اور اللہ کے فیسلہ کے مطابق بحرقلزم کے کنارے پر مڈبھیڑ ہوگئی، موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنی لاتھی پانی پر ماری، پانی دو طرف ہوگیا، موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل پڑے اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر بھی، موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچ گئے، اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ جب بیچ میں پہنچا تو پانی نے ہر طرف سے آگھیر اور سبھی اس میں غرق ہوگئے۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ آئے تو دیکھا کہ یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیسا روزہ ہے، تو انہوں نے کہا کہ آج ہی کے دن اللہ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی، اس لیے موسیٰ نے اللہ کے شکر کے طور پر روزہ رکھا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں موسیٰ کا تم سے زیادہ حقدار ہوں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا (بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ)