سورة البقرة - آیت 47

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے بنی اسرائیل ! میری نعمتیں یاد کرو جن سے میں نے تمہیں سرفراز کیا تھا اور (خصوصا) یہ (نعمت) کہ دنیا کی قوموں پر تمہیں فضیلت دی تھی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

100: نعمتوں کی دوبارہ یاد دہانی اس لیے کی گئی ہے تاکہ گذشتہ باتوں کی مزید تاکید کی جا سکے، اور آئندہ آیتوں میں آنے والے وعید شدید کا بنی اسرائیل کے کفرانِ نعمت کے ساتھ ربط پیدا کیا جائے ١٠١: نعمتوں کا بالمعموم ذکر کرنے کے بعد اب ایک خاص نعمت کا ذکر کیا گیا ہے اور خطاب اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے یہود سے ہے، لیکن مراد ان کے آباء واجداد ہیں اور (عالم) سے مراد اس دور کا عالم ہے، اور فضیلت دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان میں رسولوں کو بھیجا، کتابیں اتاریں، اور انہیں بادشاہت عطا کی۔ اس لیے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے یہود مدینہ میں نے تمہارے آباء و اجداد کو ان کے دور کے دوسرے لوگوں پر فضیلت دی۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہی معنی مراد لینا ضروری ہے کیونکہ امت محمدیہ ان سے بلاشبہ افضل ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے آیت کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر وتومنون باللہ ولو امن اھل الکتاب لکان خیرا لہم، یعنی اے مسلمانو ! تم بہترین لوگ ہو جو پیدا کیے گئے ہو، لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو، اور برائیوں سے روکتے ہو، اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا (آل عمران : ١١٠)