سورة النسآء - آیت 40

إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے کئی گنا کردیتا ہے، اور خود اپنے پاس سے عظیم ثواب دیتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

47۔ گذشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت، اور والدین اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا، اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی، اور بخل کبر اور دیگر کئی بری صفات سے منع فرمایا، تو موقع و مناسبت کا تقاضا تھا کہ خیر و شر کے جزا و سزا کا بھی ذکر ہو۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ قیامت کے دن حساب کے وقت کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہ کرے گا، بلکہ ایک ایک نیکی کو کئی کئی گنا بڑھائے گا، اور ایسے لوگوں کو اپنے پاس سے بھی اجر عظیم دے گا۔ صحیحین میں ابو سعید خدری (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیث شفاعت میں روایت کی ہے کہ اللہ کہے گا جاؤ، جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ملے اسے آگ سے نکال دو۔ ایک روایت میں ہے کہ جس کے دل میں ایمان کا ادنی ترین ذرہ بھی ہو اسے جہنم سے نکال دو۔ چنانچہ بہت سے لوگ جہنم سے نکل جائیں گے۔ ابو سعید نے کہا کہ چاہو تو قرآن کی یہ آیت ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ، پڑھو، لیکن کافروں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں مل جائے گا۔ آخرت میں ان کی کوئی نیکی ان کے کام نہیں آئے گی (مسلم، ابو داود، طیالسی)