سورة النسآء - آیت 39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بھلا ان کا کیا بگڑا جاتا اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اللہ نے ان کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کردیتے؟ اور اللہ کو ان کا حال کو ب معلوم ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

46۔ اس میں بھی منافقین کے رویہ کی نکیر کی گئی ہے اور انہیں ایک طرح کی ڈانٹ پلائی گئی ہے کہ اگر وہ لوگا للہ اور رسول پر ایمان لے آتے اور اللہ کی مرضی کے لیے اپنا مال خرچ کرتے، تو ان کا کیا نقصان ہوتا، یہ ایک طرح کی ربانی دعوت ہے کہ ان منافقین کو چاہئے کہ اپنے ایمان کی تصھیح کریں اور نفاق سے تائب ہو کر اسلام میں خلوص قلب کے ساتھ داخل ہوجائیں۔ آیت کے آخر میں ایک قسم کی دھمکی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی حالت نہ بدلی تو اللہ کی گرفت کا انتظا کریں۔