سورة النسآء - آیت 32

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گے ان ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ (٢٧) اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

40۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ تمنا کرے کہ اللہ نے دوسروں کو جو دیا ہے وہ اسے مل جائے اس لیے کہ اس طرح کی خواہش اللہ کی تقدیر سے عدم رضا کی دلیل ہے۔ اور اگر اس خواہش کے ساتھ یہ تمنا بھی شامل ہوجائے کہ دوسروں سے اللہ وہ نعمت چھین لے تو یہ حسد ہوگا، جس سے اللہ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے اس آیت کے شان نزول میں امام احمد اور ترمذی کی ام سلمہ (رض) سے روایت بیان کی جاتی ہے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مرد جہاد کرتے ہیں، اور ہم عورتیں جہاد نہیں کرتیں، اور ہمیں مردوں کا آدھا میراث لتا ہے، ایسا کیوں؟ تو یہ آیت نازل ہوئی، طبری اور ابن لمنذر وغیرہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ آدمی اس طرح تمنا نہ کرے کہ کاش اسے فلاں کا مال اور اس کے اہل و عیال مل جاتے، اس لیے کہ اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے، بلکہ آدمی کو چاہئے کہ اللہ کا فضل مانگے اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں میں الگ الگ صلاحیت ودیعت کی ہے، اور ہر ایک کو اس کے ساتھ زندہ رہنا چاہئے کہ اللہ ہی حکمتوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اور ہر ایک کو اللہ سے اس کا فضل و کرم مانگنا چاہئے، نیز دعا میں خوب الحاح سے کام لینا چاہئے تاکہ اللہ دعا کو قبول کرلے اور اپنے فضل و کرم سے نواز دے۔