سورة النسآء - آیت 31

إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کردیں گے۔ (٢٦) اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ تعالیٰ کا مومنوں سے وعدہ ہے کہ جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچے گا، اللہ اس کے صغیرہ گناہوں کو معاف کردے گا، اور اسے جنت میں داخل کرے گا، صحیح مسلم میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث ہے، کہ پانچوں فرض نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک، یکہ سب اعمال صالحہ اپنے درمیان کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، بشرطیکہ آدمی کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے گناہ کبیرہ کی تعریف میں صحابہ کرام اور دیگر علمائے اسلام کے مختلف اقوال آئے ہیں، ابن عباس (رض) نے کہا ہے کہ کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جس کی سزا آگی، غضبِ الٰہی، لعنت یا عذاب الٰہی بتایا گیا ہے، سعید بن جبیر کا قول ہے، کہ ہر وہ گناہ جس کی سزا اللہ نے آگ بتائی ہے وہ گناہ کبیرہ ہے، اور علمائے اصول کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جس پر اللہ نے کوئی حد مقرر کی ہو، یا اس پر کوئی وعید آئی ہو، جن کبیرہ گناہوں کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے، ان کی تعداد کے بارے میں بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے سات کسی نے ستر اور کسی نے سات سو کہا ہے۔ بعض علمائے اسلام نے کبائر سے متعلق کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اس سلسلے میں حافظ ذہبی کی کتاب الکبائر اور ابن حجر ہیثمی کی الزواجر عن اقتراف الکبائر مشہور ہیں۔ لیکن ان کتابوں میں بہت تساہل اور توسع سے کام لیا گیا ہے۔ اور اس تساہل کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے اجتہاد سے بہت گناہوں کو کبیرہ قرار دیا ہے۔ جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے ان گناہوں کے بارے میں صڑاحت نہیں آئی ہے کہ وہ کبیرہ گناہ ہیں، واللہ اعلم بالصواب۔