سورة آل عمران - آیت 185

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

123۔ اس آیت کریمہ میں بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ دنیا جزا کی جگہ نہیں ہے، یہ تو عمل کی جگہ ہے، یہاں سے ہر آدمی کو گذر جانا ہے، یہاں تو بہت سے مجرم اور ظالم دندناتے پھرتے ہیں، اور انہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی۔ اور بہت سے نیک اور صالح لوگ پوری زندگی اللہ کی مرضی کے کاموں میں گذار دیتے ہیں اور انہیں کوئی راحتِ جان نصیب نہیں ہوتی۔ جزا و سزا کی جگہ تو قیامت کا دن ہوگا، اس دن جو جہنم سے دور کردیا جائے گا اور جنت میں داخل کردیا جائے گا، وہی حقیقی معنوں میں فائز المرام ہوگا، یہ دنیاوی زندگی تو دھوکے کی ٹٹی ہے۔ امام احمد اور مسلم نے عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو چاہتا ہے کہ جہنم سے دور کردیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے، تو اسے چاہئے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جیسا وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں۔