سورة آل عمران - آیت 181

لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ : اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں۔ (٦٢) ہم ان کی یہ بات بھی (ان کے اعمال نامے میں) لکھے لیتے ہیں، اور انہوں نے انبیاء کو جو ناحق قتل کیا ہے، اس کو بھی، اور (پھر) کہیں گے کہ : دہکتی آگ کا مزہ چکھو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

121۔ حافظ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب سورۃ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی، من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ اضعافا کثیرہ، یعنی کون ہے جو اللہ کو اچھاقرض دے، پس اللہ اسے خوب بڑھا چڑھا کردے، تو یہود نے کہا کہ اے محمد ! تیرا رب فقیر ہوگیا ہے، اسی لیے اپنے بندوں سے قرض مانگتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہود نے جو بات اللہ کے بارے میں کہی، اس سے بڑھ کر اللہ کے خلاف تمرد و سرکشی کی مثال نہیں ہوسکتی، اسی لیے وعید شدید کے طور پر اللہ نے کہا کہ ان کی یہ بات ہم ان کے خلاف درج کر رہے ہیں، اور وہ تو اس کے پہلے قتل انبیاء جیسے جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں، ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں، قیامت کے دن ہم انہیں کہیں گے کہ اب جہنم کا عذاب چکھو۔