سورة آل عمران - آیت 147

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے : ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرمادے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرمادے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

101۔ اللہ والے مجاہدین کی عملی خوبیاں بیان کرنے کے بعد ان کے قول کی خوبی بیان کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے تھے، تو بہ و استغفار کرتے تھے، اور اپنے رب سے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں ثبات قدم عطا فرما اور دشمنوں پر غلبہ دے۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ گناہوں کی وجہ سے ہی دشمن غالب آجاتا ہے، اور شیطان کو مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کا موقع مل جاتا ہے، فتح و کامرانی کی شرط اول اللہ کی اطاعت و بندگی ہے، اسی لیے اللہ کے نیک بندوں کے : ربنا الغفرلنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا۔ انہیں معلوم تھا کہ ثبات قدمی اور نصرت و فتح اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اس لیے انہوں نے اللہ سے ثبات قدمی اور دشمن پر غلبہ کے لیے دعا کی۔ انتہی۔