سورة آل عمران - آیت 112

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، الا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہوجائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دیدے، انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے، اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

80۔ اللہ تعالیٰ نے ذلت و رسوائی کو یہود کی قسمت بنا دی ہے، وہ جہاں اور جس زمانے میں بھی ہوں گے، ذلیل و رسوا ہی ہو کر رہیں گے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے کسی گوشے میں اور کسی زمانے میں بھی انہیں احترام و عزت نصیب نہیں ہوئی۔ انہیں عارضی چین اور سکون صرف دو میں سے ایک ہی صورت میں ملے گا، یا تو جزیہ دے کر بطور ذمی زندگی گزاریں گے، یا کسی بڑی غیر اسلامی طاقتور حکومت کی پشت پناہی حاصل ہوجائے گی، جیسا کہ آج کل فلسطین میں یہودیوں کی ایک حکومت، امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور دیگر کافر حکومتوں کی شہ پر، اور ان کی مدد سے قائم ہے، ابھی حال ہی میں مشہور نو مسلم مفکر رجا جارودی کا بیان شائع ہوا ہے کہ اگر امریکہ اپنا ہاتھ کھینچ لے، تو اسرائیل کی حکومت عرب مسلمانوں کے سامنے چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ٹک سکتی۔ ان کی ذلت و رسوائی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ فلسطینی مسلمان بچوں نے پتھر مار مار کر ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔