سورة آل عمران - آیت 100

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تم کو دوبارہ کافر بان کر چھوڑیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو تنبیہ کی ہے کہ انہیں یہودیوں کے مکر وفریب اور ان کی سازشوں سے ہمیشہ بچ کر رہنا چاہئے۔ حافظ ابن کثیر اور امام شوکانی نے اس آیت کا پس منظر بیان کرنے کے لیے زید بن اسلم کی روایت نقل کی ہے، جسے ابن جریر، ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم وغیرہم نے اپنی اپنی سندوں سے روایت کی ہے کہ شاس بن قیس یہودی مسلمانوں کا بہت بڑا دشمن تھا، ایک دن انصار مدینہ کی ایک مجلس کے پاس سے اس کا گذر ہوا، تو مسلمانوں کے آپس کی محبت و الفت کو دیکھ کر اس کی نفرت و عداوت جاگ اٹھی، اور ایک نوجوان یہودی کو انصار کی مجلس میں بھیجا تاکہ انہیں ” جنگ بعاث“ کی یاد دلا کر اوس و خزرج کے مسلمانوں کے درمیان پھر سے جنگ کی آگ بھڑکائے، اور ایسا ہی ہوا، ان کی قبائلی حمیت جاگ اٹھی، آپس میں بدزبانی پر اتر آئے اور جنگ کے لیے آمادہ ہوگئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو آپ تشریف لائے اور انہیں اللہ کی یاد دلائی، اور جاہلیت کی عصبیت اور اس کی خطرناکیوں کا خوف دلایا، تو شر ٹل گیا، لوگوں نے ہتھیار پھینک دیا، دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور آپس میں گلے ملنے لگے۔ آیت 101 میں اللہ تعالیٰ نے گذشتہ حادثہ کو مد نظر رکھتے ہوئے خبر دی ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کفر کو قبول نہیں کرسکتی، اس لیے کہ وہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں، اور اللہ کے رسول ان کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہتے ہیں، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ دین اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کفر کقبول کرلیں۔