سورة البقرة - آیت 28

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے افراد نسل انسای !) تم کس طرح اللہ سے (اور اس کی عبادت سے) انکار کرسکتے ہو جبکہ حالت یہ ہے کہ تمہار اوجود نہ تھا، اس نے زندی بخشی پھر وہی ہے جو زندگی کے بعد موت طاری کرتا ہے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی بخشے گا، اور بالآخر تم سب کو اسی کے حضور لوٹنا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

استفہام بمعنی تعجب، انکار اور توبیخ ہے، اور خطاب انہی کافروں کو ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے، کہ حیرت ہے کہ تم اس اللہ کا انکار کرتے ہو جس نے تمہیں عدم سے پیدا کیا ہے، پھر تمہاری عمریں پوری ہوجانے کے بعد تم پر دوبارہ موت طاری کرے گا، پھر تمہیں قیامت کے دن زندہ کرے گا، پھر اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تاکہ تمہارے اعمال کا بدلہ تمہیں دے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تم تقوی کی راہ اختیار کرتے، اللہ پر ایمان لاتے، اس کے عذاب سے ڈرتے اور اس کے ثواب کی امید کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود، اپنی قدرت، اور اپنے خالق ہونے پر ایک دوسری دلیل پیش کی ہے کہ جس طرح اس نے تمہیں عدم سے پیدا کیا، پھر تمہیں موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا، اسی طرح اس نے تمہارے لیے زمین اور اس میں موجود تمام نعمتیں پیدا کیں اور پھر آسمان کو پیدا کیا۔