سورة آل عمران - آیت 44

ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

( اے پیغمبر) یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہیں دے رہے ہیں، تم اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کے لیے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا، ( ١٧) اور نہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ ( اس مسئلے میں) ایک دوسرے سے اختلاف کررہے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

38: اس قصہ میں بہت بڑی دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے نبی اور رسول تھے، اس لیے کہ جو واقعہ ہزاروں سال قبل گذر چکا تھا، اس کی خبر آپ نے لوگوں کو تفصیل کے ساتھ دی، نہ اس میں زیادتی کی اور نہ کمی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ باتیں بذریعہ وحی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائیں اور آپ نے من و عن لوگوں کو سنا دیا۔ حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی ماں انہیں مسجد لے گئیں اور علماء سے کہا کہ میں نے اس کی نذر مانی تھی وہ میں پوری کر رہی ہوں، اور آپ لوگوں کے حوالے کر رہی ہوں، اب آپ لوگ اس کی دیکھ بھال کریں، تو ہر آدمی ان کی کفالت کے لیے آگے بڑھنے لگا، کیونکہ وہ ان کے امام عمران کی بیٹی تھیں۔ زکریا (علیہ السلام) نے کہا کہ میں زیادہ حقدار ہوں، اس لیے کہ اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ بالآخر سب نے قرعہ اندازی پر اتفاق کیا، اور نہر اردن میں سب نے اپنے اپنے قلم ڈالے، اس شرط کے ساتھ کہ جس کا قلم پانی کی تہہ میں جا کر پھر اوپر اٹھ آئے گا وہی مریم کی کفالت کرے گا، زکریا (علیہ السلام) کا قلم اوپر اٹھ آیا اور سب کے قلم نیچے ہی رہ گئے۔ چنانچہ زکریا انہیں اپنے گھر لے آئے اور ان کی خالہ کی گود میں ان کی پرورش ہونے گلی، یہاں تک کہ بڑی ہوگئیں اور محراب میں یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت میں لگ گئیں۔ (فوائد)۔ 1۔ اس آیت سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب کا علم رکھتے تھے۔ انہیں غیب کی وہی باتیں معلوم ہوتی تھیں جن کی خبر اللہ بذریعہ وحی انہیں دیتا تھا، جیسا کہ اس واقعے میں اس کی صراحت آئی ہے۔ 2۔ اس سے منکرین وحی کی تردید بھی ہوتی ہے، اس لیے کہ جو باتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مریم علیہا السلام کے بارے میں لوگوں کو بتائیں وہ یا تو مشاہدہ کا نتیجہ ہوسکتی تھیں، جو محال تھا، اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں موجود نہ تھے۔ یا پھر اللہ نے انہیں بذریعہ وحی بتائی تھی، اور یہی بات صحیح تھی کہ اللہ نے آپ پر قرآن کریم نازل فرمایا جس میں اس واقعے کی تفصیلات موجود ہیں۔