سورة البقرة - آیت 15

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ خود انہی کے ساتھ تمسخر ہورہا ہے کہ اللہ (کے قانون جزا) نے رسی ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے اور سرکشی (کے طوفان میں) میں بہکے چلے جا رہے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

30۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ منافقین تم لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑائے گا، یعنی ان سے انتقام لے گا، انہیں دنیا میں ذلت و حقارت میں مبتلا کرے گا، اور آخرت میں ان کے ساتھ مذاق یہ ہوگا کہ مومنین جب اپنا نور لے کر چلیں گے تو اچانک منافقین کا نور بجھ جائے گا، اور ظلمت و تاریکی میں بھٹکتے رہ جائیں گے، اس سے بڑھ کر ان کا استہزا اور کیا ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ینادونہم الم نکن معکم قالوا بلی ولکن کم فتنتم انفسکم و تربصتم وارتبتم۔ یعنی مومنین جب اپنا نور لے کر آگے بڑھ جائیں گے اور منافقین ظلمت میں ٹامک ٹوئیا کھانے لگیں گے، تو وہ ایمان والوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے انتظار کرتے تھے، دل سے ہمارے خیر خواہ نہ تھے، اور اللہ اور رسول کی طرف سے تم کو شک ہی رہا۔ الحدید، 14۔ 31۔ یہ بھی منافقین کے ساتھ اللہ کا استہزا ہی ہے کہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور کفر و فجور میں آگے بڑھنے دیتا ہے، دراں حالیکہ وہ حیران و پریشان ہوتے ہیں، اور اس سے باہر نکلنے کا انہیں کوئی راستہ نہیں ملتا۔