سورة الفاتحة - آیت 2

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام کائنات خلقت کا پروردگار ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

لفظ حمد کا ترجمہ، تعریف کرنا ہے۔ حمد اور شکر میں فرق یہ ہے کہ حمد صرف زبان سے ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ کسی نعمت کے مقابلہ میں ہو۔ جبکہ شکر زبان، دل اور دیگر اعضاء کے ذریعہ کسی نعمت اور داد و دہش پر ہوتا ہے۔ اور اس پر الف لام، استغراق و شمولیت کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ یعنی حمد و ثنا اور تعریف و توصیف کی وہ تمام قسمیں جو آسمان و زمین کے درمیان ہوسکتی ہیں، وہ سب اللہ کے لیے ہیں۔ ابن جریر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود بیان کر کے اپنے بندوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ اس کی تعریف بیان کریں۔ امام ابن القیم (رح) نے اپنی کتاب (طریق الہجرتین) میں لکھا ہے کہ ہر اعلی صفت، ہر اچھے نام، ہر عمدہ تعریف، ہر حمد و مدح، ہر تسبیح و تقدیس اور ہر جلال و عزت کی جو کامل ترین اور دائمی اور ابدی شکل ہوسکتی ہے، وہ سب اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کی جتنی بھی صفتیں بیان کی جاتی ہیں، جتنے ناموں سے اس کو یاد کیا جاتا ہے، اور جو کچھ بھی اللہ کی بڑائی میں کہا جاتا ہے، وہ سب اللہ کی تعریفیں ہیں اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس ہے۔ اللہ ہر عیب سے پاک ہے، ساری تعریفیں اس کے لیے ہیں، مخلوق کا کوئی فرد اس کی تعریفوں کو شمار نہیں کرسکتا۔ (الرب) کا معنی ہے۔ وہ آقا جس کی اطاعت کی جائے، وہ مالک جو تصرف کلی کا حق رکھتا ہے، وہ ذات برتر و بالا جو مخلوق کی اصلاح احوال کے لیے ہر تصرف کا حق رکھتا ہے۔ الف لام کے اضافہ کے ساتھ الرب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مخلوق کے لیے اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے مثلا رب الدار، گھر والا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کہا ہے ارجع الی ربک۔ اپنے آقا کے پاس لوٹ کر جاؤ (یوسف :50)۔ العالمین عالم کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عالم کا اطلاق انس و جن اور ملائکہ و شیاطین پر ہوتا ہے۔ بہائم، عالم میں داخل نہیں۔ اللہ تعالیٰ سارے جہان والوں کا آقا و مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ رب کا ایک معنی مربی بھی کیا گیا ہے، بایں طور کہ وہ تربیۃ سے مشتق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا بطور عام اور بطور خاص مدبر و مربی ہے۔ بطور عام مربی اس طرح ہے کہ اس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا، ان کو روزی دی، اور ان امور کی طرف رہنمائی کی جو دنیاوی زندگی کے لیے نافع ہیں اور بطور خاص اپنے اولیاء کا مربی ہے، یعنی ایمان کے ذریعہ ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں ایمان کی توفیق دیتا ہے اور صاحب کمال بناتا ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، جو اس کے اور ان اولیاء کے درمیان حائل ہوسکتے ہیں۔ یعنی انہیں ہر خیر کی توفیق دیتا ہے اور ہر شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور غالباً یہی راز ہے کہ انبیاء کرام کی تمام دعائیں کلمہ الرب سے شروع ہوتی ہیں اس لیے کہ ان کے تمام مطالب اللہ کی ربوبیت خاص کے ضمن میں آتے ہیں۔ اس تمام تر تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ صفت خلق و تدبیر عالم اور صفت کمال بے نیاز و تمام نعمت میں اللہ تعالیٰ منفرد ہے اور آسمان و زمین کی تمام مخلوق ہر اعتبار سے اس کی محتاج ہے۔