سورة البقرة - آیت 154

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجاتے ہیں تو یہ مت کہو کہ مردے ہیں۔ نہیں وہ تو زندہ ہیں، لیکن تم ان کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

230: اللہ کی اطاعت پر صبر کرنے کا عظیم ترین نمونہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے کہ آدم اپنے خالق و مالک کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں اپنی عزیز ترین شے (جان) کی قربانی دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے شہید کو اس دنیاوی زندگی سے افضل و اعلی زندگی عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے اور مومنین کو منع کیا ہے کہ وہ شہید کو مردہ کہٰں، کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہوتا ہے۔، لیکن وہ اسی زندگی ہوتی ہے جس کا ہم شعور نہیں کرپاتے، مگر ہمارے شعور نہ کر پانے سے اللہ کے نزدیک ثابت شدہ حقائق نہیں بدل جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے۔ آیت بل احیاء عند ربہم یرزقون۔ فرحین بما اتاھم اللہ من فضلہ ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بہم من خلفہم الا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ یستبشرون بنعمۃ من اللہ وفضل وان اللہ لا یضیع اجر المومنین۔ یعنی وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کی طرف سے روزی مل رہی ہے، اور اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دیا ہے، اس پر خوش ہیں اور ان لوگوں کی نسبت خوش ہو رہے ہیں جو ابھی ان سے ملے نہیں، ان کے پیچھے ہیں کہ نہ تو انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کسی قسم کا غم کھائیں گے، وہ اللہ کی نعمتوں اور اس کے فضل کی وجہ سے خوشیاں مناتے ہیں اور اس بات سے اللہ ایمان رکھنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ آل عمران : 169 تا 171۔ فائدہ : یہ آیت برزخ کی زندگی پر دلیل ہے، اور یہ کہ برزخ کی زندگی دنیاوی زندگی سے افضل و اکمل ہے۔