سورة ھود - آیت 105

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جب وہ دن آپہنچے گا تو کسی جان کی مجال نہ ہوگی کہ بغیر اللہ کی اجازت کے زبان کھولے، پھر (اس دن انسانوں کی دو قسمیں ہوں گی) کچھ ایسے ہوں گے جن کے لے محرومی ہے اور کچھ ایسے جن کے لیے سعادت۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨٧) قیامت کے دن کوئی شخص بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ایک کلمہ نہ اپنے دفاع کے لیے اپنی زبان سے نکالے گا اور نہ ہی کسی کی سفارش میں بولے گا، لیکن سورۃ النحل آیت (١١١) میں آیا ہے کہ ہر آدمی اس دن اپنی نجات کے لیے جھگڑا کرے گا۔ (یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا) اور سورۃ الانعام آیت (٢٣) میں آیا ہے کہ مشرکین کہیں گے : (ربنا ما کنا مشرکین) کہ اے ہمارے رب ! ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔ اس لیے علمائے تفسیر نے ان دونوں قسم کی آیتوں کے درمیان اس طرح تطبیق دی ہے کہ میدان محشر میں لوگوں کے حالات مختلف ہوں گے، کبھی تو کسی کی زبان گنگ ہوگی، اور کبھی کوئی اپنی نجات کے لیے جھگڑ رہا ہوگا۔ وعلی ہذا القیاس۔ قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے بدبخت ہوں گے جن کا ٹھکانا جہنم ہوگا، اور کرب و غم کے مارے ان کے سینوں سے آہیں اٹھ رہی ہوں گی، وہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو محض اپنے فضل و کرم سے اس میں نہ ڈالے، یا یہ کہ نافرمان توحید پرستوں کو ایک مدت کے بعد جہنم سے نکال دے، ایسی صورت میں (فاما الذین شقوا) کی عبارت کافروں اور مسلمان گناہ گاروں سب کو شامل ہوگی۔ اور یہ بات تو متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ اہل توحید جہنم سے بالآخر نکال دیئے جائیں گے، اور اس دن کچھ لوگ خوش قسمت ہوں گے جنہیں ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کردیا جائے گا، جس کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔