سورة ھود - آیت 99

وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اس دنیا میں لعنت ان کے پیچھے لگی (کہ ان کا ذکر پسندیدگی کے ساتھ نہیں کیا جاتا) اور قیامت میں بھی (کہ عذاب آخرت کے مستحق ہوئے) تو دیکھو کیا ہی برا صلہ ہے جو ان کے حصے میں آیا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨٢) جہنم جیسے بدترین ٹھکانے کا حال بیان کرنے کے بعد بدقسمت فرعونیوں کا حال بیان کیا جارہا ہے، کہ اللہ کی لعنت ان پر اس دنیا میں تو بھیج ہی دی گئی تھی، آخرت میں بھی ان پر لعنت برسے گی یعنی وہ جہاں بھی ہوں گے اللہ کی رحمت سے دور ہوں گے۔ رفد بخشش اور عطا کو کہتے ہیں، یہاں لعنت کو بخشش سے تعبیر کر کے فرعونیوں کی غایت درجہ کی اہانت اور ہتک عزتی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔