سورة ھود - آیت 91

قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

لوگوں نے کہا اے شعیب ! تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہم لوگوں میں ایک کمزور آدمی ہو، (اگر (تمہارے ساتھ) تمہاری برادری کے آدمی نہ ہوتے تو ہم ضرور تمہیں سنگ سار کردیتے، تمہاری ہمارے سامنے کوئی ہستی نہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧٦) انہوں نے حقارت آمیز انداز میں کہا کہ اے شعیب ! تمہاری ابتیں تو ہمیں سمجھ میں نہیں آتیں، تم غیبی امور کی باتیں کرتے ہو، موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے، توحید باری تعالیٰ اور مال میں حلال و حرام کی باتیں کرتے ہو، یہ سب باتیں قابل قبول نہیں ہیں، اور تم اپنی انہی باتوں کی وجہ سے سب سے کٹ کر تنہا رہ گئے ہو تمہاری کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے، اگر تمہاری قوم کا خیال نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیتے، اور تم ہماری نظر میں کسی حیثیت سے بھی معزز نہیں ہو کہ تمہیں رجم نہ کرتے، یہ صرف تمہاری قوم کا خیال آتا ہے کہ تمہیں اب تک چھوڑ رکھا ہے، اس لیے کہ وہ لوگ ہمارے دین پر ہیں۔