سورة ھود - آیت 82

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر جب ہماری (ٹھہرائی ہوئی) بات کا وقت آپہنچا تو (اے پیغمبر) ہم نے اس (بستی) کی تمام بلندیاں پستی میں بدل دیں۔ (یعنی تمام بلند عمارتیں گرا کر زمین کے برابر کردیں) اور اس پر آگ میں پکے ہوئے پتھر لگاتار برسائے کہ تیرے پروردگار کے حضور (اس غرض سے) نشانی کیے ہوئے تھے۔ (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٨) جب عذاب کا وقت موعود آگیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبریل (علیہ السلام) نے اپنا پر قوم لوط کی پانچوں بستیوں کے نیچے داخل کر کے انہیں زمین کی سطح سے بہت ہی اوپر اٹھا دیا، اور پھر انہیں الٹ کر زمین پر دے مارا، اس کے بعد ان پر لگاتار پتھروں کی بارش کردی، جن پر اللہ کی جانب سے ہر کافر کے نام لکھے تھے۔ مفسر مہایمی لکھتے ہیں کہ چونکہ ان کا عمل زانیوں کے عمل کے مشابہ تھا، اسی لیے ان پر پتھروں کی بارش کردی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بستیاں مکہ کے مشرکین سے کچھ زیادہ دور نہیں ہیں، جب وہ شام کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں، تو ان بستیوں کے بھولے بسرے آثار کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ کہیں انہیں بھی قوم لوط کی طرح اللہ کا عذاب پکڑ نہ لے، ان بستیوں کی جگہ اب کھارے پانی کا سمندر پایا جاتا ہے، جسے بحر میت کہتے ہیں، اس لیے کہ اس کا پانی کوئی جاندار نہیں پی سکتا ہے، اسے بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں، اور اس کے آس پاس کی زمین بنجر ہے جو کچھ بھی نہیں اگاتی ہے۔