سورة البقرة - آیت 148

وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو ہر گروہ کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ (عبادت کے وقت) رخ پھیر لیتا ہے۔ (پس یہ کوئی ایس بات نہیں جسے حق و باطل کا معیار سمجھ لیا جائے۔ اصلی چیز جو مقصود ہے وہ تو نیک عملی ہے) پس نیکیوں کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو (یعنی جس جگہ اور جس سمت میں بھی خدا کی عبادت کرو) خدا تم سب کو پا لے گا۔ یقیناً اس کی قدرت سے کوئی بات باہر نہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

222: یہ آیت بتاتی ہے کہ ہر صاحب دین و ملت کے لیے ایک مخصوص جہت ہوتی ہے، جدھر وہ اپنی عبادتوں میں رخ کرتا ہے، جیسے مسلمانوں کا قبلہ کعبہ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں مختلف مذاہبھ اور متعدد ادیان پائے جاتے ہیں، اس لیے عقلمند آدمی کو چاہیے کہ ان میں جو سب سے بہتر اور اعلی و ارفع دین ہو، اسے اپنائے، اور تمام عقلائے بنی نوع انسان کا اس پر اتفاق ہے کہ دین اسلام ہی وہ دین ہے جس میں انسان کے لیے تمام بھلائیاں جمع کردی گئی ہیں، اس لیے اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ہر انسان کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہئے۔ 223: کلمہ مسابقت، مسارعت سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ اس میں دوسروں پر سبقت لے جانے کا معنی بھی پایا جاتا ہے، اور خیرات سے مراد وہ تمام اعمال صالحہ ہیں جن کے ذریعہ دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کی جاسکتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ تمہارا شیوہ ہر خیر اور ہر بھلائی کی طرف سبقت کرنا ہونا چاہئے۔ 224: اس میں اعمالِ صالحہ کے لیے ایک قسم کی ترغیب ہے، کیونکہ آدمی کو جب یقین ہوگا یکہ اللہ سے ادوبارہ زندگہ کرے گا اور اسے اس کے اعمال کا بدلہ چکائے گا، تو پھر وہ آخرت کی تیاری میں تیز تر ہوجائے گا 225: یعنی اللہ تعالیٰ روز قیامت تمہیں زمین کے گوشے گوشے سے جمع کرنے پر قادر ہے، چاہے تمہارے اجسام و اعضاء ہر طرف بکھر کیوں نہ گئے ہوں۔