سورة ھود - آیت 73

قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

انہوں نے کہا کیا تو اللہ کے کاموں پر تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی رحمت اور برکتیں تجھ پر ہوں اے اہل خانہ ابراہیم ! (اس کے فضل و کرم سے یہ بات کچھ بعید نہیں ہے) بلاشبہ اسی کی ذات ہے جس کی ستائشیں کی جاتی ہیں اور وہی ہے جس کے لیے ہر طرح کی بڑائیاں ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٠) فرشتوں نے سارہ کی حیرت و استعجاب دیکھ کر کہا کہ تم تو نبی کی بیوی ہو، تم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو پھر یہ تعجب کیسا؟ اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ اور یہی حکم ہے، تم لوگ نبی کے گھرانے والے ہو، تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے، اور اللہ تو ہمیشہ اپنے بندوں پر نعمتوں کی بارش کرتا رہتا ہے، تاکہ وہ اس کی تعریف بیان کریں اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ہمیشہ ہی اپنے بندوں پر احسان کرتا رہتا ہے۔