سورة ھود - آیت 72

قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہ بولی افسوس مجھ پر کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میرے اولاد ہو حالانکہ میں بڑھیا ہوگئی ہوں اور یہ میرا شوہر بھی بوڑھا ہوچکا ہے؟ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٩) اس وقت سارہ کی عمر نوے سال تھی اور ایک قول کے مطابق ننانوے سال تھی، اور ابراہیم (علیہ السلام) ایک سو، یا ایک سو بیس سال کے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے اسماعیل عطا کیا تو سارہ نے تمنا کی، کاش انہیں بھی بیٹا ہوتا، لیکن اپنی کبر سنی کی وجہ سے ناامید تھیں، اس وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور انہیں بیٹے کی خوشخبری دی تو سارہ نے غایت تعجب کی وجہ سے ان فرشتوں سے کہا کہ مجھے لڑکا کیسے ہوسکتا ہے، میں تو نوے سال کی بڑھیا ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں، یہ تو بڑی عجیب و غریب بات ہوگی کہ بوڑھے اور بوڑھی کے ملاپ سے لڑکا پیدا ہو۔