سورة ھود - آیت 17

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر دیکھو جو لوگ اپنے پروردگار کی جانب سے ایک روشن دلیل رکھتے ہوں (یعنی وجدان و عقل کا فیصلہ) اور اس کے ساتھ ہی ایک گواہ بھی اس کی طرف سے آگیا ہو ( یعنی اللہ کی وحی) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی پیشوائی کرتی ہوئی اور سر تا پارحمت آچکی ہو ( اور تصدیق کر رہی ہو تو کیا ایسے لوگ انکار کرسکتے ہیں؟ نہیں) یہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور (ملک کے مختلف) گروہوں میں سے جو کوئی اس سے منکر ہوا تو یقین کرو (دوزخ کی) آگ ہی وہ ٹھکانا ہے جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ پس (اے پیغمبر) تو اس کی نسبت کسی طرح کے شک میں نہ پڑیو ( یعنی دعوت قرآن کی کامیابی کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کیجیو) وہ تیرے پروردگار کی جانب سے امر حق ہے۔ لیکن (ایسا ہی ہوتا ہے) کہ اکثر آدمی (سچائی پر) ایمان نہیں لاتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٤) طالب دنیا اور طالب آخرت برابر نہیں ہوسکتے ہیں، طالب دنیا کا حال گزر چکا، یہاں طالب آخرت کا حال بیان کیا جارہا ہے۔ آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس پر ایمان لائے گا اور نبی کریم کی اتباع کرے گا وہ اس کی نگاہ میں اس آدمی کے مانند ہرگز نہیں ہوسکتا جس کا منتہائے مقصود دنیا کا عیش و آرام ہو، ایک دوسری تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم جنہیں اللہ نے قرآن جیسا معجزہ اور برہان قاطع دیا ہے، اور جن کے لیے جبریل (علیہ السلام) کو بطور شاہد متعین کیا ہے، اور جن کی بشارت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی کتاب تورات میں مذکور ہے جو اس زمانہ کے لوگوں کے لیے رہنما اور رحمت تھی، کیا وہ اللہ کی نگاہ میں اس آدمی کے مانند ہوجائیں گے جس کا منتہائے مقصود دنیا کا عیش و آرام ہے؟ (اولئک یومنون بہ) میں اشارہ ان مومنین صادقین کی طرف ہے جو اللہ کے نازل کردہ دین اسلام پر قائم ہوں، ان کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ وہ لوگ نبی کریم کی تصدیق کرتے ہیں، یا قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور دیگر تمام کفار عالم کے بارے میں فرمایا کہ جو کوئی نبی کریم یا قرآن پر ایمان نہیں لائے گا، اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا، صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کا کوئی بھی شخص جسے میری خبر ہوجائے گی، چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی، اور مجھ پر ایمان نہیں لائے گا تو اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ (١٥) نبی کریم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی قسم کا شک کرنے سے معصوم بنایا تھا، اس لیے مقصود صحابہ کرام اور دیگر مسلمان ہیں، انہیں نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ قرآن کے کلام الہی ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ نہ کریں۔