سورة ھود - آیت 15

مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو کوئی (صرف) دنیا کی زندگی اور اس کی دلفریبیاں ہی چاہتا ہے تو (ہمارا ٹھہرایا ہوا قانون یہ ہے کہ) اس کی کوشش و عمل کے تنائج یہاں پورے پورے دے دیتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ دنیا میں اس کے ساتھ کمی کی جائے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٣) چونکہ کفار قریش کا عناد اور ان کی سرکشی کا سب سے بڑا سبب دنیاوی زندگی کا عیش و آرام اور ریاست و قیادت کی خواہش تھی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیتوں میں دنیاوی فائدوں کی حقارت اور ان لوگوں کا انجام بیان کیا ہے جو صرف انہی کے طالب ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اعمال صالحہ کے بدلے میں جس کا مطمح نظر صرف دنیا کی زندگی اور اس کا عیش و آرام اور ٹھاٹھ باٹھ ہوتا ہے، تو اللہ اسے ان اعمال کا بدلہ اس کی نیت کے مطابق دیتا ہے، اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، لیکن آخرت میں انہیں ان اعمال صالحہ کا کوئی اچھا بدلہ نہیں ملے گا، بلکہ نفاق اور ریا کاری کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیے جائیں گے، قرآن کریم نے اس مضمون کو سورۃ الاسرء آیات (١٨، ١٩، ٢٠) میں اور سورۃ الشوری آیت (٢٠) میں بھی بیان کیا ہے کہ جو آدمی نیک کاموں کے ذریعے دنیاوی فائدوں کا طلبگار ہوتا ہے، اللہ اسے اس کی نیت کے مطابق اس کا بدلہ دنیا میں چکا دیتا ہے، لیکن آخرت میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور جو آدمی آخرت کا طلبگار ہوتا ہے، اللہ اسے جنت عطا کرے گا۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہزار کوشش کے باوجود آدمی کی دنیاوی خواہش پوری نہیں ہوتی ہے، اسی لیے قرطبی نے لکھا ہے کہ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت اور سورۃ شوری کی آیت (٢٠) اور سورۃ آل عمران کی آیت (١٤٥) مطلق آیتیں ہیں، جن کی تفسیر سورۃ الاسراء کی آیت (١٨) سے ہوتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشاء لمن نرید) کہ جو آدمی دنیا کا عارضی فائدہ چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں دیتے ہیں، انتہی۔ یعنی اللہ کسی کو نہیں بھی دیتا ہے۔ یہ آیت کریمہ مسلمانوں کے لیے خطرہ کی گھنٹی بھی ہے کہ آدمی نیک عمل کرتا ہے، لیکن اگر اس میں اخلاص اور للہیت نہیں ہے تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے وبال جان بن جائے گا، اور جہنم اس کا ٹھکانا ہوگا۔ امام مسلم نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ روز قیامت جب حساب شروع ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ایک ایسے آدمی کو بلائے گا جو بظاہر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہوا تھا، اس سے پوچھے گا کہ تو نے کیا عمل کیا تھا؟ تو وہ کہے گا کہ اے اللہ ! میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ قتل کردیا گیا، تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تو نے جہاد اس لیے کیا تھا کہ لوگ تجھے مجاہد کہیں، سو یہ بدلہ تجھے دنیا میں مل گیا، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اسی طرح ریا کار عالم، ریا کار قاری اور ریا کار مالدار کو بلایا جائے گا اور سبھوں کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔