سورة یونس - آیت 98

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر کیوں ایسا ہوا کہ قوم یونس کی بستی کے سوا اور کوئی بستی نہ نکلی کہ (نزول عذاب سے پہلے) یقین کرلیتی اور ایمان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتی؟ یونس کی قوم جب ایمان لے آئی تو ہم نے رسوائی کا وہ عذاب اس پر سے ٹال دیا جو دنیا کیز ندگی میں پیش آنے والا تھا اور ایک خاص مدت تک سروسامان زندگی سے بہرہ مند ہونے کی مہلت دے دی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٣) مشرکین مکہ کو عذاب آنے سے پہلے ایمان لانے کی کی ترغیب دلائی جارہی ہے، اور وہ اس طرح کہ ان کے سامنے ان بستیوں کی مثال پیش کی جارہی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس لیے ہلاک کردیا کہ ان کے رہنے والوں نے عذاب آنے سے پہلے ایمان کا اعلان نہیں کیا، جیسا کہ فرعونیوں کے ساتھ ہوا کہ جب انہوں نے اپنے آپ کو ڈوبتے دکھا تو کہا کہ ہم ایمان لے آئے، اگر انہوں نے عذاب آنے سے پہلے ایمان کا اعلان کیا ہوتا تو ان کا ایمان ان کے کام آتا، اللہ تعالیٰ نے اس حکم سے یونس (علیہ السلام) کی قوم کو مستثنی قرار دیا ہے، اس لیے کہ انہوں نے عذاب آنے سے پہلے اس کے آثار دیکھتے ہی فورا توبہ کرلی تھی، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی اور عذاب کو ٹال دیا تھا، بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہ جملہ نفی کے معنی میں ہے، گویا یوں کہا گیا ہے کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کے علاوہ ہلاک ہونے والی بستیوں میں سے کوئی بستی بھی ایمان نہیں لائی۔ ائمہ تفسیر نے عبداللہ بن مسعود، قتادہ اور سعید بن جبیر وغیرہم سے یونس (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے بارے میں جو روایتیں نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موصل شہر کے رہنے والے تھے، اللہ نے انہیں نینوی شہر والوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا تھا، جسے اشور بن نمرود نے بسایا تھا، جو نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کی اولاد سے تھا، یہ شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس وقت اس کی آبادی چھ لاکھ تھی، اس زمانے میں اشوریوں کی قوت اتنی بڑھ گئی تھی کہ ایشیا کے اکثر علاقے ان کے زیر تصرف آگئے تھے، اسی وجہ سے وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوگئے تھے اور اللہ سے سرکشی کرنے لگے تھے، انہی کی ہدایت کے لیے اللہ نے یونس (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، لیکن جب وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے، تو یونس (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اب تم لوگ اللہ کے عذاب کا انتظار کرو جو چالیس دن کے بعد تمہیں آلے گا، خود وہاں سے نکل کر صحرا کی طرف چلے گئے، جب اشوریوں کے امیر کو پتہ چلا تو ڈر گیا، اور پوری قوم کے ساتھ اللہ کے سامنے تائب ہوتا، جب اللہ نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنی توبہ میں صادق ہیں تو عذاب کو ٹال دیا۔