سورة البقرة - آیت 139

قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) تم ان لوگوں سے کہو، ہماری راہ تو خدا پرستی کی راہ ہے۔ پھر، کیا تم خدا کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ (یعنی خدا پرستی کے شیوے ہی سے تمہیں اختلاف ہے؟ حالانکہ ہماری اور تمہارا دونوں کا پروردگار وہی ہے۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ اور ہمارا طیقہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ صرف اسی کی بندگی کرنے والے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

202: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دی ہے کہ مشرکینِ اہل کتاب آپ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، تو جھگڑا ختم کرتے ہوئے کہیے کہ تم کیسے لوگ ہو جو اللہ کی توحید و اخلاص اور اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ اس کے بعد اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دی کہ آپ ان سے براءت کا اعلان کردیں، اور کہدیں کہ اگر تم شرک پر جمے رہے تو ہم ایک دوسرے سے بری ہیں، اور ہم تو اپنی عبادت اور تعلق باللہ میں مخلص ہیں۔