سورة یونس - آیت 93

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور ہم نے بنی اسرائیل کو (اپنے عدہ کے مطابق فلسطین میں) بسنے کا بہت اچھا ٹھکانا دیا تھا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا سامان کردیا تھا، پھر جب کبھی انہوں نے (دین حق کے بارے میں) اختلاف کیا تو علم کی روشنی ضرور ان پر نمودار ہوئی (یعنی ان میں یکے بعد دیگرے نبی مبعوث ہوتے رہے لیکن پھر بھی وہ حقیقت پر متفق نہ ہوئے) قیامت کے دن تمہارا پروردگار ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں باہم اختلاف کرتے رہے ہیں (یعنی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت حال کیا تھی)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٠) فرعون سے نجات دلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بڑے احسانات کیے، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا، فرعون کی ہلاکت کے بعد پورے مصر پر بنی اسرائیل کی حکومت ہوگئی، لیکن ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ بیت المقدس لوٹ کر جاتے جو ان کے جد اعلی ابراہیم (علیہ السلام) کا ملک تھا، اور جس پر ان دنوں عمالقہ قابض تھے، موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں عمالقہ سے جہاد کرنے کو کہا، لیکن انکار کر گئے جس کی وجہ سے اللہ نے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں بھٹکتا چھوڑ دیا، پہلے ہارون اور پھر موسیٰ اسی میدان تیہ میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ بالآخر یوشع بن نون (علیہ السلام) کی قیادت میں انہوں نے عمالقہ سے جہاد کیا اور فلسطین میں داخل ہوگئے، پھر کچھ دنوں کے لیے اس پر بخت نصر قابض ہوگیا، لیکن دوبارہ بنی اسرائیل غالب آگئے، اس کے بعد ایک طویل مدت تک یونانی بادشاہوں کے قبضہ میں رہا، انہی کے زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے، جن کے ساتھ یہودیوں نے سازش کر کے عیسیٰ کے شبیہ کو پھانسی دلوائی، عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تقریبا تین سو سال بعد یونانی بادشاہ قسطنطین دین مسیح کو خراب کرنے کے لیے حیلہ کر کے اس میں داخل ہوگیا، اور اس کے بعد نصرانیوں کا ملک شام جزیرہ اور بلاد روم پر قبضہ رہا، یہاں تک کہ امیر المومنین عمر بن الخطاب کے زمانہ میں صحابہ کرام نے ان کے ہاتھوں سے بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ اس آیت میں بنی اسرائیل پر اللہ کے بے شمار احسانات کا ذکر کر کے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی ناشکری کی، اور مرور زمانہ کے ساتھ ان کے پاس تورات کا علم ہونے کے باوجود جماعتوں میں بٹ گئے، اس کی ایک دوسری تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ نبی کریم کی بعثت سے پہلے یہود آپ کی بعثت کا انتظار کرتے تھے، لیکن آپ جب مبعوث ہوئے اور ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو اکثر یہود نے ان پر اور قرآن پر ایمان لانے سے انکار کردیا، صرف گنے چنے چند افراد اسلام میں داخل ہوئے۔