سورة یونس - آیت 46

وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغمبر) ہم نے ان لوگوں سے ( یعنی منکرین عرب سے) جن جن باتوں کا وعدہ کیا ہے (یعنی دعوت حق کے پیش آنے والے نتائج کی خبر دی ہے) ان میں سے بعض باتیں تجھے (تیری زندگی میں) دکھا دیں یا (ان کے ظہور سے پہلے) تیرا وقت پورا کردیں لیکن بہرحال انہیں ہماری ہی طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس پر شاہد ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٧) نبی کریم کو خطاب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان کافروں سے جو کہہ رکھا ہے کہ آپ کا دین غالب ہو کر رہے گا اور مسلمان انہیں یا تو قتل کریں گے یا پابند سلاسل بنائیں گے، تو ممکن ہے کہ آپ یہ سب کچھ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور اگر اس کے پہلے ہی اللہ نے آپ کو اٹھا لیا، تو وہ لوگ ہم سے بچ کر کہاں جائیں گے، آخر تو انہیں مرنے کے بعد ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے، اور ہم ان کے کرتوتوں کو دیکھ رہے ہیں، اور ان کے خلاف اپنی شہادتیں جمع کر رہے ہیں، تو وہاں آخرت میں ہم انہیں ضرور عذاب دیں گے، اور آپ اپنی آنکھوں سے انہیں اس حال زار میں دیکھ لیں گے۔ چنانچہ میدان بدر اور دوسری جنگوں میں ان میں سے بہت سے مارے گئے، اور بہت سے قیدی بنائے گئے، وار ان کے کبر و غرور کا بت پاش پاش ہوگیا، اور رسول اللہ نے اپنی آنکھوں سے انہیں ذلیل و رسوا ہوتے دیکھ لیا، اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔