سورة یونس - آیت 38

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے (یعنی پیغمبر اسلام نے) اللہ کے نام پر یہ افترا کیا ہے؟ تم کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو (اور ایک آدمی اپنے جی سے گھڑ کر ایسا کلام بنا سکتا ہے) تو قرآن کی مانند ایک سورت بنا کر پیش کردو اور خدا کے سوا جن جن ہستیوں کو اپنی مدد کے لیے بلاسکتے ہو (تمہیں پوری طرح اجازت ہے) بلا لو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٣) اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کو اس قرآن کے سلسلے میں تین مراحل میں چیلنج کیا، ابتدا میں پورے قرآن جیسا لانے کا چیلنج کیا، چنانچہ سورۃ الاسراء آیت (٨٨) میں فرمایا : (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) اور جب اہل عرب اپنی تمام لسانی فصاحتوں اور بلاغتوں کے دعووں کے باوجود ایسا کرنے سے عاجز رہے تو اللہ تعلای نے قرآن کریم جیسی دس ہی سورتیں لانے کا چیلنج کیا، جیسا کہ سورۃ ہود آیت (١٣) میں فرمایا : (ام یقولون افتراہ قل فاتوا بعشر سورمثلہ مفتریات وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین) اور جب اس پر بھی خاموش رہے اور ان کے لسانی غرور کا صنم ان ہی کے قدموں میں چکنا چور ہوگیا، تو قرآن کریم نے ان کے کبر و غرور کے تابو میں آخری کیل ٹھوک دی، اور کہا کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ قرآن محمد کا خود ساختہ کلام ہے تو تم بھی انہی جیسے انسان ہو، ذرا قرآن جیسی ایک سورت لاکر دکھا دو، اور اپنی مدد کے لیے جسے چاہو بلا لو، اس چیلنج کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی یہ آیت نازل فرمائی : (ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین) لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس چیلنج کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا، اور نہ قیامت کے دن تک کوئی دے سکے گا، اس لیے کہ یہ قرآن اللہ کا معجزہ ہے، کوئی انسان اس جیسا کلام نہیں لاسکتا۔