سورة یونس - آیت 12

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جب کبھی انسان کو کوئی رنج پہنچتا ہے تو خواہ کسی حال میں ہو، کروٹ پر لیٹا ہو، بیٹھا ہو، کھڑا ہو ہمیں پکارنے لگے گا، لیکن جب ہم اس کا رنج دور کردیتے ہیں تو پھر اس طرح (منہ موڑے ہوئے) چل دیتا ہے گویا رنج و مصیبت میں کبھی اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہیں تھا، تو دیکھو ! جو حد سے گزر گئے ہیں ان کی نگاہوں میں اسی طرح ان کے کام خوش نما کردئے گئے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) ان کافروں کا حال بھی عجیب ہے کہ جب رسول اللہ انہیں اللہ کی طرف بلاتے ہیں تو استکبار میں آکر عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، اور اگر اللہ کبھی انہیں گرفت میں لے لیتا ہے تو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں، اور جب اللہ ان کی تکلیف دور کردیتا ہے تو دعا اور گریہ و زاری کو ایسا بھول جاتے ہیں کہ جیسے کبھی اللہ کو پکارا ہی نہیں تھا۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ یہ حالت کافروں کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے، بہت سے مسلمانوں کا حال بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو خوب دعائیں کرتے ہیں اور اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہیں، اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو دعا اور گریہ و زاری سے غافل ہوجاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔