سورة یونس - آیت 5

هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور پھر چاند کی منزلوں کا اندازہ ٹھہرا دیا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ نے یہ سب کچھ نہیں بنایا ہے مگر حکمت و مصلحت کے ساتھ ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں وہ (اپنی قدرت و حکمت کی) دلیلیں کھول کھول کر بیان کردیتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو بہت سی عام و خاص نعمتوں سے نوازا ہے، انہی عام اور اہم نعمتوں میں سے سورج اور چاند بھی ہیں، اس آیت کریمہ میں ان دونوں کی تخلیق اور ان کے عظیم منافع کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت، قدرت اور علم و حکمت کے مزید دلائل پیش کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آفتاب کی تیز شعاعوں کو دن کی روشنی اور چاند کی دھیمی شعاعوں کو رات کی روشنی کا ذریعہ بنایا، اور آفتاب کے بارہ برج اور چاند کے اٹھائیس منازل بنائے، تاکہ انسان اپنی دنیاوی زندگی میں سالوں، مہینوں، دنوں اور گھنٹوں کے حساب جان سکے، اللہ نے انہیں بے کار اور عبث نہیں پیدا کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے شمس و قمر کو پیدا نہ کیا ہوتا، تو انسانوں کے بہت سے دنیاوی اور دینی مصالح ضائع ہوجاتے، کہاں سے معلوم ہوتا کہ سال بارہ مہینوں کا، اور مہینہ تیس یا انتیس دن کا، اور دن چوبیس گھنٹوں کا ہوتا ہے، اور ان حسابات سال و ماہ اور روز سے انسانوں کی جن ضروریات کا تعلق ہے وہ کیسے پوری ہوتیں؟