سورة یونس - آیت 1

الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

الر۔ یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی (یعنی ایسی کتاب کی جس کی تمام باتیں حکمت کی باتیں ہیں)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١) حروف مقطعات کے بارے میں سورۃ بقرہ کی ابتدا میں لکھا جاچکا ہے کہ جمہور محدثین کے نزدیک بہتر رائے یہی ہے کہ اس کا صحیح مفہوم اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کتاب حخم سے مراد قرآن کریم ہے اور ھذہ اسم اشارہ قریب کے بجائے تلک اسم اشارہ بعید کے استعمال سے مقصود قرآن کریم کی عظمت شان بیان کرنا ہے۔ قرآن کریم کی صفت حکیم اس اعتبار سے لائی گئی ہے کہ یہ وہ کتاب محخم ہے جس میں حلال و حرام اور حدود و احکام تفصیل کے ساتھ بیان کردئے گئے ہیں، یا یہ کہ حکیم بمعنی حاکم ہے اس لیے کہ قرآن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے یا حکیم معبنی محکوم فیہ ہے، اس لیے کہ اللہ نے اس میں پورے عدل و انصاف کے ساتھ تمام امور میں فیصلے صادر فرمائے ہیں۔