سورة التوبہ - آیت 102

وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور دوسرے لوگ (وہ ہیں) جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، انہوں نے ملے جلے کام کیے، کچھ اچھے کچھ برے تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ ان پر (اپنی رحمت سے) لوٹ آئے، اللہ بڑا ہی بخشنے والا بڑا ہی رحمت والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨٠) اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مخلص مسلمان تھے، منافق نہیں تھے، لیکن سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے، اور جب غزوہ میں شریک نہ ہونے والے منافقین کے بارے میں آیتیں نازل ہوئیں تو انہیں اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا، اور فکر دامن گیر ہوئی کہ اب کیا کیا جائے؟ اور اس کی تلافی کیسے ہو؟ ابن عباس کی روایت کے مطابق ان کی تعداد دس تھی ان میں سے سات نے طے کیا کہ وہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ دیں گے اور اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ انہیں معاف کردیں اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھول دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب رسول اللہ نے انہیں دیکھا اور ان کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں سبب بتایا گیا آپ نے فرمایا کہ انہیں اسی حال میں رہنے دو یہاں تک مجھے اللہ کی طرف سے انہیں کھول دینے کا حکم ملے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے انہیں کھول دیا، اور باقی تین کعب بن مالک، مرارہ بن الربیع، اور ہلال بن امیہ کا قصہ مشہور ہے کہ رسول اللہ نے ان کا سماجی بائیکاٹ کردیا، ان کی بیویوں کو ان سے الگ کردیا، یہاں تک کہ سورۃ التوبہ کی آیت (١١٨) (وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا) نازل ہوئی، اور اللہ نے ان کی بھی توبہ قبول کرلی۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ انہوں نے جہاد میں شرکت نہ کرکے اپنے سابقہ اعمال صالحہ کے ساتھ گناہ کو ملا دیا تھا، لیکن جب انہوں نے صدق دل سے توبہ کیا تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔