سورة التوبہ - آیت 73

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں دونوں سے جہاد کر اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آ (کیونکہ کافروں کی عہد شکنیاں اور منافقوں کا عذر فریب اب آخری درجہ تک پہنچ چک ہے) بالآخر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے (اور جس کا آخری ٹھکانا دوزخ ہو تو) کیا ہی بری پہنچنے کی جگہ ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

55۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا ہے کہ وہ کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد کریں، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد تاقیامت یہ حکم مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ اور کافروں سے جہاد یہ ہے کہ ان سے جنگ کی جائے، یہاں تک کہ اسلام لے آئیں، یا اگر یہود و نصاری ہیں اور اسلام نہیں لاتے تو ذلت و رسوائی کے ساتھ جزیہ دیں، جیسا کہ اسی سورت کی آیت 29 میں گذر چکا ہے۔ اور منافقین سے جہاد یہ ہے کہ دلائل و براہین کے ذریعہ ان کے خلاف حجت قائم کی جائے یہاں تک کہ تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ مسلمانو ! کفار و منافقین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ نہ کرو، بلکہ ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔