سورة التوبہ - آیت 58

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور ان میں کچھ ایسے ہیں کہ مال زکوۃ بانٹنے میں تجھ پر عیب لگاتے ہیں (کہ تو لوگوں کی رعایت کرتا ہے) پھر حالت کی یہ ہے کہ اگر انہیں اس میں سے چیا جائے تو خوش ہوجائیں نہ دیا جائے تو بس اچانک بگڑ بیٹھیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

45۔ بعض منافقین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صدقات کی تقسیم کے بارے میں نکتہ چینی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد عدل و انصاف سے کام نہیں لیتا، اپنے چہیتوں کو زیادہ دیتا ہے اور ہمیں کم، اللہ نے فرمایا کہ ایسا سوچنا ان کی دنیا پرستی اور نفاق کا نتیجہ تھا، اگر وہ مخلص مسلمان ہوتے تو اللہ اور رسول کی تقسیم پر راضی رہتے اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور اللہ آئندہ اپنے فضل و کرم سے مزید دے گا، اور ہمارا مقصود حیات تو یہ ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔ بخاری و مسلم نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ بنی تمیم کے ذوالخویصرہ نامی شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول انصاف سے کام لیجئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہاری بربادی ہو، اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ عمر (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے ساتھی ہیں جن کی نماز اور روزے کے مقابلے میں تم لوگ اپنی نماز اور روزے کو حقیر جانو گے، وہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں، لیکن ان کی گردنوں سے آگے نہیں بڑھتا، وہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ اسی کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔