سورة التوبہ - آیت 55

فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تو (دیکھو) یہ بات کہ ان لوگوں کے پاس مال و دولت ہے اور صاحب اولاد ہیں تمہیں متعجب نہ کرے، یہ تو اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ نے مال و اولاد ہی کی راہ سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دینا چاہا ہے (کہ نفاق و بخل کی وجہ سے مال کا غم و بال جان ہورہا ہے اور اولاد کو اپنے سے برگشتہ اور اسلام میں ثابت قدم دیکھ کر شب و روز جل رہے ہیں) اور (باقی رہا آخرت کا معاملہ تو) ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں گی کہ ایمان سے محروم ہوں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

42۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جا رہا ہے کہ منافقین کے مال و دولت، اولاد اور ان کی دنیاوی چمک دمک کی وجہ سے آپ دھوکے میں نہ آجائیں، یہ تو انہیں ڈھیل دی گئی ہے تاکہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر مال و دولت حاصل کریں، اس کی حفاظت کے لیے دن کا چین اور رات کا سکون کھو بیٹھیں، اور اللہ کی طرف سے اس سلسلے میں مصائب و شدائد کو برداشت کریں، اور بالآخر ان کی موت کفر پر ہوجائے۔