سورة التوبہ - آیت 38

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے اللہ کی راہ میں قدم اٹھاؤ تو تمہارے پاؤں بوجھ ہو کر زمین پکڑ لیتے ہیں کیا آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کی زندگی ہی پر ریجھ گئے ہو؟ (اگر ایسا ہی ہے) تو (یاد رکھو) دنیا کی زندگی کی متاع تو آخرت کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے مگر بہت تھوڑی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(32) اس سورت کی ابتدا میں بتایا جا چکا ہے کہ اس کی مرکزی مضامین میں سے ایک مضمون غزوہ تبوک اور اس متعلق حالات وواقعات اور احکام ہیں یہ آیات کریمہ غزوہ تبوک کے موقع سے نازل ہوئی تھیں اور ان میں ان منافقین اور ضیعف الا ایمان مسلمانوں کی زجر وتوبیخ کی گئی ہے جو اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ فتح مکہ کے ایک سال بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع کہ ہر قل شاہ روم مسلمانوں سے جنگ کی تیاری کر رہا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوال 9 ھ میں مسلمانوں کی جنگی تیاری کا حکم دے دیا زمانہ سخت گرمی کا تھا پھلوں کے پکنے کا وقت تھا مسلمان عام تنگد ستی میں تھے لیکن پھر بھی مخلص مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز پر لبیک کہا اور لشکر کی تیاری میں دامے درمے قدمے سخنے حصہ لیا اور جنگ کے لیے روا نہ ہوگئے ہر قل کو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کی خبر ملی تو پیچھے ہٹ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر اسلام کے ساتھ تبوک کے مقام پر بیس دن تک قیام کرنے کے بعد واپس ہوئے اسی کو غزوہ تبوک کہا جاتا ہے اگرچہ جنگ نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ سورت کی ابتدا میں بتایا گیا ہے کہ اس کے نتائج بہت ہی دور رس نکلے اس غزوہ میں بعض صعیف الا یمان مسلمان اور بہت سے منافقین گرمی کی شدت کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے یہ آیتیں اسی پس منظر میں نازل ہوئی تھیں، آیت (38) میں دنیاوی مال ومتاع کی حقارت اور اخروی زند گی کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، امام احمد اور مسلم نے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کی حثیت آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر نکالے الحدیث۔ آیت (40) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کا اطمینان ویقین دلا یا گیا ہے کہ ظاہری اسباب کے ذریعہ آپ کی مدد تو آپ کے اطمینان کے لیے ہے ورنہ اللہ کسی ظاہر سبب کا محتاج نہیں اگر لوگ آپ کی مدد نہیں کرتے ہیں تو نہ کریں وہ تو ہر حال میں اپنے نبی کی مدد کرتا رہے گا اور کبھی بھی اسے تنہا نہیں چھوڑے گا اور اس کی مثال ہجرت کے وقت کے حالات ہیں جب اہل مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردینا چاہا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے ساتھ مکہ سے چھپ یکر نکلے اور تین دن تک غار ثور میں چھپے رہے دشمنوں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں پالینے کی ہر انسانی تدبیر کر ڈالی لیکن اللہ نے اپنے نبی کی حفاظت کی اور بحفاظت تمام مدینہ منورہ پہنچایا۔ ثانی اثنین سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) ہیں امام احمد اور بخاری ومسلم نے ابو بکر (رض) سے ورا یت کی ہے کہ جب ہم غار میں تھے تومیری نظر مشر کین کے قدموں پر پڑی جبکہ وہ ہمارے سروں پر کھڑے تھے میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر دشمنوں میں سے کوئی اپنے قدموں پر نظر ڈالے گا تو ہمیں دیکھ لے گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابو بکر ! آپ کا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سکون واطمینان نازل کیا اور فرشتوں کے ذریعہ ان کی مدد کی جو غار میں آپ کی حفاظت کرتے رہے اور کفر وشرک مغلوب ہوا اور توحید کو غلبہ حاصل ہوا۔