سورة التوبہ - آیت 34

۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مسلمانو ! یاد رکھو (یہودیوں اور عیسائیوں کے) علما اور مشائخ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لوگوں کا مال ناحق و ناروا کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے انہیں روکتے ہیں اور جو لوگ چاندی سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے، تو ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوش خبری سنا دو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(28) اس آیت کریمہ میں یہود ونصاری کے عالموں اور راہبوں کا حال کا حال بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں رشوت لے کے ان کی مرضی کے مطابق فتوے دیتے ہیں اور تورات وانجیل میں موجود احکام ومسائل کو بدل دیتے ہیں اور اپنی افتر پردازیوں کو اللہ کی شریعت بتاتے ہیں دورجاہلیت میں علمائے یہود کا برامقام تھا انہیں لوگوں کی طرف سے خوب پیسے ملتے تھے اور مختلف قسم کے ہدیے ان کے پاس پہنچتے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں لیکن اپنی کرسی اور دنیاوی فائدوں کی خاطر اسلام نہیں لائے تو اللہ نے ان کی عزت وریاست کو ذلت ورسوائی سے بدل دیا۔ یہاں مقصود مسلمانوں کو ان کے علمائے سوء گمراکن عابدوں کی طر سے متنبہ کرنا ہے سفیا بن عینہ کا قول ہے جو مسلمان عالم گمراہ ہوجاتا ہے علمائے یہود کے مشابہ ہوجاتا ہے اور جو مسلمان عابد گمراہ وجا تا ہے وہ عباد نصاری کے مشابہ ہوجاتا ہے، صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے مسلمانون تم لوگ گذشتہ قوموں کے طریقوں کو ضرور اپنا ؤگے اور اس ان کے نقش قدم پر پورا چلو گے لوگوں نے پوچھا کیا مراد یہو دونصاری ہیں، تو آپ نے فرمایا اور کون لوگ ہو سکتے ہیں ؟ ایک روایت میں ہے فارس اور روم کے لوگ۔ (29) علمائے اور عباد کے حالات بیان کرنے کے بعد آیت کے اس حصہ میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو سونا اور چاندی اکھٹا کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ جہنم کا درد ناک عذاب ان کا انتظار کررہا ہے اور یہ حکم عام ہے، اس میں یہود ونصاری کے وہ علماء اور عباد شامل ہیں جو سونا چاندی جمع کرتے تھے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تھے اور وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو اپنے مال کی زکات نہیں ادا کرتے ہیں ابو داؤد اور حاکم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام کو بڑی مشکل پیش آئی عمر بن خطاب (رض) نے کہا کہ میں تم لوگوں کی مشکل آسان کر تو ہوں اور جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ آپ کے صحابہ کو اس آیت سے بڑی مشکل پیش آگئی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے زکات اسی لیے فرض کیا ہے کہ تمہارے باقی مال کو پاک بنادے اور تمہارے مال میں قانون وراثت کو اسی لیے جاری کیا ہے تاکہ تمہارے بعد والوں کو مال ملے تو عمر (رض) نے اللہ اکبر کہا الحدیث اس لیے جہہور علماء کی رائے ہے کہ جس مال کی زکات ادا کر دے جائے گی وہ کنز نہیں ہوگا طبرانی اور بیہقی کی روایت ہے کہ نبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مال کی زکات دے دے جائے اے کنز نہیں کیا جائے گا ابن عمر (رض) کی رائے ہے اس آیت میں کنز پر جو وعید آئی ہے وہ زکات کے حکم کے ذریعہ منسوخ ہوچکی ہے ان سے ایک موقوف حدیث بھی مروی ہے جس مال کی زکات دے دی جائے چاہے وہ سات زمین کے نیچے ہو وہ کنز نہیں کہلائے گا لیکن جس مال کی زکاہ نہ دی جائے اس پر بڑی وعید آئے ہے صحیح مسلم میں ابو ہر یرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکات نہیں دیتا قیامت کے دن آگ کی تختیوں سے اس کا پہلو اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ داغی جائے گی الحدیث۔