سورة التوبہ - آیت 32

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ لوگ چاہتے ہیں اللہ کی روشنی اپنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ اللہ یہ روشنی پوری کیے بغیر رہنے والا نہیں اگرچہ کافروں کو پسند نہ آئے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(26) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہودونصاری کی ایک اور قسم کی گمرالی کو بیان کیا ہے یعنی ولوگ اپنے جھوٹے اقوال اور باطل مناظروں کے ذریعہ اللہ کے آخری دین دین اسلام کی تکذیب کرتے ہیں اور لوگوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ اللہ کا دین نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے آخری نبی ہیں تو ان کی مثال اس آدمی کی ہے جو آفتات یا چاند کی روشنی کی اپنی پھو نکوں سے ختم کرنا چاہتا ہو جس طرح اس آدمی کو یہ حرکت مجنونانہ ہے اور وہ آفتاب یا ماہتاب کی روشنی کو کو ءی نقصن نہیں پہنچا سکتا ہے اسی طرح یہ یہود ونصاری اپنی پھونکوں سے اسلام کی کی شمع ہدایت کو نہیں بھاج سکتے اس لیے کہ اللہ چاہتا ہے کہ چہار دانگ عالم میں اس دین کی روشنی پھیل جائے اور کافروں کے ہزار نہ چاہئے کے باجود ایسا ہو کر رہے گا۔