سورة التوبہ - آیت 29

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اہل کتاب میں سے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ نہ تو خدا پر (سچا) ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت کے دن پر، نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے (ان کی کتاب میں) حرام ٹھہرا دیا ہے اور نہ سچے دین ہی پر عمل پیرا ہیں تو (مسلمانو) ان سے (بھی) جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنی خوشی سے جزیہ دینا قبول کرلیں اور حالت ایسی ہوجائے کہ ان کی سرکشی ٹوٹ چکی ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(23) اوپر کی آیتوں میں مشرکین سے متعلق احکام بیان کیے گئے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان سے اور ان کے معاہدوں سے اظہار براءت کردیں اور اظہار براءت کے چارماہ بعد انہیں جزیرہ عرب میں نہ رہنے دیں اور جنگ کرکے انہیں قتل کریں نیز مسجد حرام میں ان کا داخلہ ممنوع کردیں۔ اس آیت کریمہ سے اہل کتاب کے متعلق احکام کا آغاز ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو ھکم دیا کہ مشر کین کے تصیفہ کے بعد اس علاقہ میں رہنے والے اہل کتاب سے جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ یا تو اسلام قبول کرلیں یا جزیہ دینے پر راضی ہوجائیں مجاہد کا قول ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہل روم سے جنگ کرنے کا حکم دیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور آپ غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوگئے کلبی کا قول ہے کہ یہ آیت بنوقریظہ اور بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی اور آپ نے ان کے ساتھ جزیہ لینے کی شرط پر مصا لحت کرلی اور یہ پہلا جزیہ تھا جو مسلما نوں کو ملا اور مسلمانوں کے ہاتھوں اہل کتاب کی پہلی ذلت ورسوائی تھی۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ پہلی ایت ہے جو 9 ھ میں اہل کتاب یعنی یہود ونصاری سے جنگ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی نازہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام مسلما نوں کو اہل روم سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور اطراف مدینہ کے قبائل عرب کو بھی فوج میں شریک ہونے کا حکم دیا تقریبا تیس ہزار افراد جمع ہوگئے منافقین مدینہ سے بعض شریک نہیں ہوئے وہ زمانہ خشک سالی اور شدید گرمی کا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل روم سے جنگ کی نیت سے شام کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ تبوک پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر بیس دن قیام کیا پھر اللہ کے حکم سے مدینہ واپس آگئے اس سورت کی ابتدا میں بتایا جاچکا ہے کہ جب قیصر روم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم کے آنے کی خبر ہو تو میدان چھوڑ کر اپنی فوف کی ساتھ بھاگ کھڑا ہو اور جنگ نہیں ہوئی لیکن اس جنگ کا جو مقصد تھا وہ پورا پورا حاصل ہوا اور وہ تمام علاقے مسلمانوں زیر تصر آگئے۔ جزیتہ " مال کو کہتے ہیں جو اہل کتاب اور دیگر کفار سالانہ مسلمانوں کو اس عوض میں دیتے ہیں کہ مسلمان ان سے قتال نہیں کریں گے اور مسلمانوں کے درمیان انہیں رہنے کی اجازت دی جائے گی ان کی جانیں اور ان کا مال محفوظ رہے گا اور اس کی مقدار مالدار متوسط اور فقیر کے اعتبار سے گھٹتی بڑھتی ہے جس کی تعین مسلمان حاکم یا اس کا نمائندہ کرے گا۔ علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے گا یا دوسرے کافروں بھی سے بھی۔ ابو حنیفہ، شافعی احمد اور سفیا ثوری کا خیال ہے کہ اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ قبول نہیں کا جائے گا یہ لوگ مجوس کو بھی اہل کتاب میں شمار کرتے ہیں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا اور مالک اور اوزعی کے رائے ہے کہ تمام کافروں سے جزیہ لیاجائے گا۔