سورة البقرة - آیت 119

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے پیغمبر ! یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے تمہی (خلق اللہ کی ہدایت کے لیے) بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا ہے کہ (ایمان و عمل کی برکتوں کی) بشارت دو، اور (انکار حق کے نتائج سے) متنبہ کردو (یعنی تمہاری دعوت تمام تر خدا پرستی اور نیک عملی کی دعوت ہے۔ پھر جو لوگ نشانیاں مانگ رہے ہیں اگر فی الحقیقت ان میں سچائی کی طلب ہے تو غور کریں، تمہاری دعوت سے بڑھ کر اور کون سی نشانی ہوسکتی ہے؟ جو لوگ (اپنی محرومی و شقاوت سے) دوزخی گروہ ہوچکے، تم ان کے لیے خدا کے حضور جوابدہ نہیں ہوگے (تمہارا کام صرف پیام حق پہنچا دینا ہے)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

176: اس میں گواہی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ حق سے مراد دین اسلام ہے جو قرآن وسنت کا نام ہے 177: مشرکین عرب کے لیے وعید شدید ہے اور یہ کہ ان سے ایمان کی توقع نہیں کی جاسکتی، وہ لوگ اللہ کے علم میں جہنمی ہیں