سورة التوبہ - آیت 6

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغمبر) اگر مشرکوں میں سے کوئی آدمی آئے اور تم سے امان مانگے تو اسے ضرور امان دو، یہاں تک کہ وہ (اچھی طرح) اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے (باامن) اس کے ٹھکانے پہنچا دو، یہ بات اس لیے ضروری ہوئی کہ یہ لوگ (دعوت حق کی حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(7) اوپر کی آیت میں حکم عام تھا کہ چار ماہ کی مدت معاہدہ گذر جانے کے بعد جو مشرک بھی پکڑا جائے اور جب حال میں بھی قتل ہوا سے قتل کیا جائے اسی حکم کی تخصیص کی طور پر یہاں کہا جا ہا ہے کہ اگر کوئی مشرک مدت معاہد یا چار ماہ کی مدت گذر جانے کے بعد مسلمانوں سے امان چاہے تاکہ اسے قرآن کر یم سننے اور سمجھنے کا موقع ملے اور اسلام کا بغو مطالعہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اسے یہ موقع فراہم کیا جائے اس لیے کہ بہت ممکن ہے کہ اس کا کفر پر قائم رہنا جہالت اور اسلام کی خو بیوں کو نہ جاننے کی وجہ سے ہو یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی موقع سے قریش نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس طالب ہدایت یا پیغام رساں کی حثیت سے آتا تھا تو آپ اسے امان دیتے تھے صلح حدیبیہ کہ موقع سے قریش کے کئی افراد آپ کے پاس آئے جن میں عروہ بن مسعود کا نام زیادہ مشہور ہے انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جب مسلمانوں کی عقیدت ومحبت کا مشاہدہ کیا تو بہت زدیاہ متاثر ہوئے اور واپس جا کر کفار قریش کی محفلوں میں بیان کیا جس کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد بہت سے کفار قریش نے اسلام قبول کرلیا۔ اگر مسلمانوں کے درمیان رہنے قرآن کریم سننے اور سمجھنے اور اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد مشرف باسلام ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے اس کو امان کی جگہ پہنچا دیا جائے تاکہ کفار مسلمانوں کو خائن نہ کہیں۔ امام بخاری نے اپنی کتاب التاریخ میں اور نسائی نے سنن میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کسی آدمی کو پناہ دی اور پھر اسے قتل کردیا تو میں ایسے قاتل سے بری ہوں چاہے مقتول کافر ہو۔ اس کے دارالفکر پہنچ جانے کے بعد اگر مسلمان اس علاقہ پر حملہ کریں اور وہ مارا جائے تو مسلمان کو کو ءی گناہ لاحق نہی ہوگا۔