سورة الانفال - آیت 73

وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو) جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ بھی (راہ کفر میں) ایک دوسرے کے کارساز و رفیق ہیں۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے (یعنی باہمی ولایت اور بھائی چارگی کا جو حکم دیا گیا ہے اور وفائے عہد اور اعانت مسلمین کی جو تلقین کی گئی ہے اس پر کاربند نہیں رہو گے) تو ملک میں فتنہ پیدا ہوجائے گا اور بڑی ہی خرابی پھیلے گی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(63) اس آیت میں مسلما نوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست بنائیں چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیونہ ہوں اس لیے کہ کافر دوست کافر ہی ہوتا ہے، اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے ورث نہیں ہو سکتے ہیں، بخاری نے اسامہ بن زید سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دودین والے آپس میں وارث نہیں ہوں گے۔ (64) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو دوست نہیں رکھیں گے اور کافرور سے قطع تعلق نہیں کریں گے تو بہت بڑے فتنے وفساد دکا دروازہ کھل جائے گا جو مسلمان کمزرو ہوں گے وہ کافروں کا ساتھ مل جائیں گے اور ممکن ہے کہ مرتد ہوجائیں اور اگر مرتد نہ بھی ہوں تو بھی عقیدہ وعمل اور عادات واطوار میں کافروں کا اثر قبول کرلیں گے اسی طرح اگر مسلمان اس آیت کے بموجب آپس میں متحد ہوں گے تو کفار ان کے خلاف سازش کر کے ان پر حملہ آور ہوجائیں گے اور ان کے علاقوں پر قابض ہوجائیں گے اس کے بر عکس اگر آپس میں متحد رہیں گے تو ان کی قوت بڑھتی جائے گی اور دوسرے مذاہب کے لوگ دین اسلام میں داخل ہوتے جائیں گے اور فتنہ فساد کے بہت سے دروازے ازخود بند ہوتے چلے جائیں گے۔