سورة الانفال - آیت 71

وَإِن يُرِيدُوا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اگر ان لوگوں نے چاہا تمہیں دغا دیں تو (کوئی وجہ نہیں کہ تم اس اندیشہ سے اپنا طرز عمل بدل ڈالو) یہ اس سے پہلے خود اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں اور اسی کی پاداش ہے کہ تمہیں ان پر قدرت دے دی گئی ہے اور (یاد رکھو) اللہ سب کچھ جانتا اور (اپنے تمام کاموں میں) حکمت رکھنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(61) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا جارہا ہے کہ اگر یہ مشرکین فدیہ دے کر جان چھڑا لیں اور ابظاہر اسلام کا علان کر کے آپ کو دھو کہ دینا چاہیں اور مکہ پہنچ کر کفر کی طرف لوٹ جائیں تو آپ اس کی پرواہ نہ کیجئے اور ڈرایئے نہیں انہوں نے پہلے بھی کفر وشرک کا ارتکاب کر کے اللہ کے ساتھ خیانت کی تھی اللہ نے انہیں آپ کا قیدی بنا دیا اگر پھر ایسا کیا تو دوبارہ ان کا نجام ایسا ہو ہوگا اور انہیں کفر کی ذلت کے ساتھ قید وبنند کی ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔