سورة الانفال - آیت 70

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّمَن فِي أَيْدِيكُم مِّنَ الْأَسْرَىٰ إِن يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے پیغمبر لڑائی کے قیدیوں میں سے جو لوگ تمہارے قبضہ میں ہیں ان سے کہہ دو اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں کچھ نیکی پائی تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے کہیں بہتر چیز تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا، وہ بڑا بخشنے والا رحمت والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(59) حاکم اور بیہقی وغیر ہما کی روایتوں کے مطابق یہ آیت عباس بن عبدالمطلب (رض) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، واقعہ بدر کے بعد ابوالیسر کعب بن عمرو نے انہیں قید کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کو آپ کے اسلام کا زیادیہ علم ہے اگر سچے ہیں تو اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا لیکن ظاہر حالات کے مطابق آپ اپنی اور اپنے دونوں بھتیجوں نوفل وعقیل کی طرف سے فدیہ ادا کیجئے تو انہوں نے فدیہ دیا اور یہ آیت نازل ہو ئی (60) ابن سعد اور حاکم نے ابو موسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ ابو العلاء حضر نے بحرین سے اسی (80) ہزار کی رقم بھیجی اس سے پہلے اس سے زیادہک مال آپ کے پاس نہیں آیا تھا آپ نے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا عباس (رض) آئے اور کہا کہ میں نے جنگ بدر کے بعد اپنا اور اپنے بھتیجوں کا فدیہ دیا تھا اس لیے مجھے اس مال میں سے دیجئے آپ نے انہیں بہت سارا مال دیا، یہاں تک کہ بوجھ سے اٹھ نہیں پارہے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرانے لگے عباس (رض) نے جاتے ہوئے کہا کہ اللہ کے دو وعدوں میں سے ایک پورا ہوا دوسرے کا معلوم نہیں کہ آخرت میں کیا ہوگا اسے مام بخاری نے بھی صیغہ تعلیق کے ساتھ روایت کی ہے۔