سورة الانفال - آیت 64

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے پیغمبر ! اللہ تیرے لیے کفایت پیدا کرتا ہے اور ان مومنوں کو بھی جو تیرے پیچھے چلنے والے ہیں۔ (١)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(54) آیت (62) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشارت دی تھی کہا گر معاہدہ کے بعد دشمن آپ کو دھوکہ دیں گے تو اللہ آپ کے لیے کافی ہوگا، اس آیت میں اس بشارت کو تمام امور اور تمام حالات کے لیے عام کردیا گیا ہے حافظ یابن القیم رحمہ اللہ نے زادالمعاد کے مقد میں اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اکیلا اللہ آپ کے لیے اور آپ کے پیر وکار مومنوں کے لیے کافی ہے اب اللہ کے علاوہ آپ کو کسی کی ضرورت نہیں پڑے گی، آگے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں بڑی زبر دست ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ اللہ اور مومنین آپ کے لیے کافی ہیں یہ معنی سراسر غلط ہے، اس لیے کہ توکل تقوی اور عبادت کی طرح (کفایت) بھی اللہ کے ساتھ خاص ہے جہاں تک تائید کا تعلق ہے تو اللہ اپنے نبی کی تائید کبھی خود کرتا ہے اور کبھی مومنوں کے ذریعہ کراتا ہے، اسی لیے آیت (62) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یعنی آپ کے لیے صرف اللہ کافی ہے اس کے بعد فرمایا یعنی اللہ نے آپ کی تائید خود بھی کی اور مومنوں کے ذریعہ بھی کرائی اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کے جن اہل توحید اور اہل توکل بندوں نے صرف اللہ کو اپنے لیے کافی مانا اللہ نے سورۃ آل عمران کی آیت (173) میں ان کی تعریف کی اور فرمایا وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کرلیے ہیں تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے ان کا ایمان بڑھادیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے اللہ کے ان نیک بندوں نے حسبنا اللہ روسولہ یعنی اللہ اور اس کا رسول ہمارے لیے کافی ہے نہیں کہا بلکہ یہ کہا کہ صرف ہمارے لیے کافی ہے۔