سورة الانفال - آیت 55

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بلا شبہ اللہ کے نزدیک بدترین چار پائے وہ (انسان) ہیں جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی تو یہ وہ لوگ ہیں کہ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(46) کافروں کے اندر کفر عدم ایمان اور خیانت جیسی تین بری صفات پائی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ نہ وہ اللہ کے کسی عہد پر قائم رہتے ہیں اور نہ اپنی کسی بات میں سچے ہوتے ہیں اس لیے وہ اللہ کی نگاہ میں گدھوں اور کتوں سے بدتر ہوتے ہیں، ان کے اندر کوئی خیر نہیں ہوتی ہے اس لیے اگر وہ جنگ میں پکرے جائیں تو انہیں سخت عذاب دیا جائے تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائیں۔ سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیتیں یہود مدینہ بالخصوص بنو قریضی کے بارے میں نازل ہوئی تھیں اور چونکہ گذشتہ آیتوں میں دعوت اسلامی کے دشمنوں ( کفار قریش) کا ذکر ہو رہا تھا اس یے ضمنا بنو قریظہ کا ذکر آگیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بدترین جانور قرار دیا اور ان کے بارے میں خبر دی کہ وہ کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے، یہی وجہ ہے کہ جب ان کے قلعوں کا محاصر کیے جانے کے بعد پکڑے گئے تو صحابہ کرام نے ان میں سے ایک ایک سے کہا ہے اسلام قبول کرلو تاکہ قتل نہ کیے جاؤ لیکن انہوں نے قتل کیے جانے کو اسلام لانے پر ترجیح دی ان کی تیسری خاص صفت یہ تھی کہ انہوں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم کے ساتھ معاہدہ کیا تو اس پر قائم نہیں رہے، ایک بار معاہدہ کیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ کریں گے اور نہ کسی کی ان کی خلاف مدد کریں گے تو اس پر قائم نہیں رہے اور قریش کی ہتھیاروں کے ذریعہ مدد کی اور جب ان کی بدعہدی کا پتہ چل گیا تو اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور معذرت پیش کی اور دوبارہ عہد کی تجدید کی لیکن پھر غزوہ احزاب کے موقع سے بدعہدی کردی اور ان کے ایک سراد کعب بن الا شرف نے مکہہ جاکر کفار قریش کو مسلما نوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔