سورة الانفال - آیت 38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تم ان سے کہہ دو اگر وہ (اب بھی) باز آجائیں تو جو کچھ گزر چکا معاف کردیا جائے لیکن اگر وہ پھر (ظلم و جنگ کی طرف) لوٹے تو ( اس بارے میں) پچھلوں کا طور طریقہ اور اس کا نتیجہ گزر چکا ہے (اور ہی انہیں بھی پیش آکر رہے گا)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(32) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے حق میں کتنا بڑا رؤف ورحیم ہے کہ ان کا کفر وعباد لوگوں کو راہ حق کی طرف بلانے سے اس کے لیے نع نہیں بنتا اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ابو فیان اور ان کے ساتھیوں کو بالخصوص اور تمام کفار کو بلعموم کہا ہے کہ اگر وہ کفر اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جنگ کرنے سے باز آجائیں گے تو اللہ ان کے گزشتہ گنا ہوں کی معاف کر دے دے گا جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ کہ اسلام گذشتہ گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے، اور تو بہ بھی سابق گنا ہوں کو مٹا دیتی ہے اور وہ اگر دوبارہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کریں گے تو یہ اللہ کی سنت رہے ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے جیسا کہ میدان بدر میں کفار کا انجام ہوا۔