سورة البقرة - آیت 112

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہاں (بلاشک نجات کی راہ کھلی ہوئی ہے مگر وہ کسی خاص گروہ بندی کی راہ نہیں ہوسکتی۔ وہ تو ایمان و عمل کی راہ ہے) جس کسی نے بھی اللہ کے آگے سر جھکا دیا اور وہ نیک عمل بھی ہوا تو وہ اپنے پروردگار سے اپنا اجر ضرور پائے گا۔ نہ تو اس کے لیے کسی طرح کا کھٹکا ہے نہ کسی طرح کی غمگینی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٦٤: اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے دعوی کی دوبارہ تردید کی اور فرمایا کہ یہ محض تمہارا دعوی ہے کہ صرف تم ہی لوگ جنت میں جاؤ گے، جن میں ہر وہ شخص داخل ہوگا، جو موحد اور اپنے عمل میں مخلص ہوگا، اور متبع سنت ہوگا، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہود و نصاری جنت میں داخل نہیں ہوں گے، اس لیے کہ نہ وہ موحد ہیں، نہ اپنے عمل میں مخلص ہیں اور نہ متبع سنت ہیں۔ فائدہ : حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ عمل کے (عنداللہ) مقبول ہونے کی دو شرطیں ہیں، پہلی شرط یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کے لیے ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور اسلامی شریعت کے مطابق ہو، اگر نیت میں اخلاص ہو لیکن سنت کے مطابق نہ ہو تو وہ عمل مردود ہوگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ رد کردیا جائے گا (مسلم) اس لیے راہبوں، سادھووں اور صوفیوں کا عمل اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں، اس لیے کہ ان کے عمل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع مفقود ہے، اسی طرح اگر عمل بظاہر شریعت کے موافق ہے، لیکن نیت اللہ کی رضا نہیں، تو ایسا عمل بھی مردود ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا، ان المنافقین یخادعون اللہ وھو خادعہم، کہ بے شک منافقین اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اللہ ان کو دھوکہ دے رہا ہے۔